Click Here For ammi Ji Video

Thursday, 12 April 2018



¤¤
میں۔تم۔بچپن اور محبت ¤¤
" وہ اپنی مما کی وفات کے بعد پہلی بار اپنے پاپا کے ساتھ باہر گھومنے کے لیے نکلا تھا۔۔۔
صرف پانچ برس کا ہی تھا جب اسکی مما کی ڈیتھ ہو گئی۔
شروع کے کچھ مہینے تو مما اس کو یاد آتی رہی لیکن پھر رفتہ رفتہ وہ اسکے ذہن سے نکلتی گئی۔۔۔
بچے جہاں بہت حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں وہیں ان میں بے پناہ ہمت بھی ہوتی ہے۔۔۔ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پہ رو دیتے ہیں اور ہر بڑے سے بڑا غم بہت جلدی بھول بھی جاتے ہیں۔۔۔وہ بھی اپنی مما کی موت کا غم بھول گیا تھا۔۔۔۔
اپنے پاپا کے ساتھ وہ پہلی بار یورپ گھومنے آیا تھا۔۔۔اس کے پاپا کو اس سے بہت محبت تھی کیونکہ وہ انکی محبت کی آخری نشانی تھا۔۔۔ محبوب کے قدموں کی دھول بھی سونا ہوتی ہے۔۔۔وہ آخر اسکا اپنا خون تھا۔۔ اسکو خوش رکھنے کی خاطر وہ 
urdu stories pdf
www.ntsteacher.com

اسے یورپ کی سیر کروانے آیا تھا۔۔۔
سورج ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے وہ ایک پارک میں پہنچے۔۔۔
پارک میں ہر طرف بچوں کا شور تھا۔۔۔چہل پہل کا عالم تھا۔۔ہر سو ہنسی اور مسکراہٹیں بکھری ہوئی تھیں۔۔اس کے پاپا اسے ایک بینچ پر بٹھا کر پارک کی اکلوتی کینٹین سے کھانے کا سامان لینے چلے گئے۔۔۔
وہ سہما ہوا سا اس بینچ پر بیٹھا تھا۔۔۔۔اسکے عقب میں ایک تاڑ کا پیڑ پورے جوبن پر لگا ہوا تھا۔۔۔وہ اپنے پاوں کو بینچ سے نیچے لٹکا کر گم سم بیٹھا تھا۔۔۔
تبھی اسے اپنے پاس کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔۔اس نے سر اٹھا کر اپنی بائیں جانب دیکھا۔۔
اسکی ہی عمر کی ایک انگریز بچی اسکے ساتھ بینچ پر بیٹھی اسے بڑی معصومیت سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
سفید فراک میں ملبوس وہ بچی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔اسکی نیلی آنکھوں میں اک عجیب سی کشش تھی۔اسکے ہلکے بھورے بال اس پر بہت جچ رہے تھے۔۔۔۔اسے اس بچی کا دیکھنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔۔اک عجیب سا غیر معمولی احساس اسکے دل میں پنپ چکا تھا۔۔۔
تبھی اس لڑکی نے اپنی زبان میں اس سے کچھ کہا۔۔اسے اسکی بات کی کوئی سمجھ نہیں آئی۔۔۔جو الفاظ اس بچی نے استعمال کیے وہ بھی اسے یاد نہیں تھے۔۔۔
اسے بس اس بچی کا اس سے مخاطب ہونا یاد تھا۔۔۔اسے یاد تھا تو صرف اسکے سفید دانتوں کی چمک۔۔۔اسے اسکی نیلی آنکھوں کا سحر یاد تھا۔۔۔اسکے ہلکے بھورے بالوں کی چمک یاد تھی۔۔۔۔وہ کہیں گم سا ہو گیا تھا۔۔ ۔وہ وہاں ہوتے ہوئے بھی وہاں نہیں تھا۔۔۔اسے اس بچی کے وہاں سے جانے کا بھی علم نہیں ہوا تھا۔۔۔جب اسکے پاپا نے آکر اسے آواز دی تو وہ سحر کی حالت سے بیدار ہوا۔۔۔اس نے اپنے اردگرد بہت بےچینی سے دیکھا۔۔۔وہ وہاں نہیں تھی۔۔۔جا چکی تھی۔۔۔۔کہاں؟؟اس کا جواب شاید اسے کوئی نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔جب وہ بینچ سے اٹھنے لگا تو اسے ایک کلپ اسی جگہ پر پڑا ملا جہاں وہ بچی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔وہ کوئی نایاب کلپ تھا۔۔۔اس میں دو نیلے رنگ کے ہیرے جڑے ہوئے تھے۔۔۔اس نے وہ کلپ اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔۔۔اکثر رات کو وہ وہی کلپ نکال کر بیٹھ جاتا۔۔اسے یوں لگتا جیسے وہ اس کے پاس ہی آگئی ہو۔۔۔اس کو دیکھ رہی ہو۔۔۔سن رہی ہو۔۔
اپنے پاپا کے ساتھ وہ جتنے دن وہاں رہا روز ضد کر کے اسی پارک میں جاتا تھا۔۔۔وہ اس سے ایک بار پھر مل کر اس کی کہی بات کا مطلب جاننا چاہتا تھا۔۔۔لیکن وہ اس کے بعد اسے کبھی نظر نہیں آئی۔۔۔وہ بڑے شکستہ دل کے ساتھ اپنے دیس واپس لوٹ آیا تھا۔۔۔۔۔
جب وہ بڑھاپے کی آخری دہلیز پر پہنچ گیا تو ایک بار پھر یورپ چلا گیا۔۔۔اکیلا ہی۔۔۔۔کوئی بھی اسکے ساتھ نہیں تھا۔۔۔وہ کسی کا ساتھ چاہتا بھی نہیں تھا۔۔۔۔
اسی پارک میں آکر وہ اسی بینچ پر بیٹھ گیا۔اسکے عقب میں کھڑا تاڑ کا پیڑ بھی بوڑھا ہو چکا تھا۔۔اسکی شاخیں جس سے اسکا حسن بڑھ جاتا تھا گرنے سے کم ہو گئی تھیں۔۔اس بینچ کا رنگ بھی پھیکا پڑگیا تھا۔۔۔وہ وہیں سر جھکا کر بیٹھ ھیا۔۔تبھی اسے اپنے بالکل قریب بائیں جانب ایک بچی اسی بینچ پر بیٹھی دکھائی دی۔۔۔۔
وہی چہرہ۔۔۔وہی نیلی آنکھیں۔۔۔۔وہی ہلکے بھورے بال۔۔وہی سفید رنگ کی فراک۔۔۔اور وہ بالکل اسی طرح معصومیت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اس نے بھی اسے غور سے دیکھا۔۔۔۔اس کے بال چھوٹے اور سفید ہو چکے تھے۔۔۔ہر بزرگ کی طرح بڑھاپے کا آخری سہارا ایک چھڑی کی صورت میں اس نے اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔۔۔دائیں ہاتھ کی کہنی بینچ کے اوپری حصے پر ٹکا کر وہ بڑے پیار سے اس بچی کو دیکھ رہا تھا۔۔
اسے لگا کہ وہ بھی بچہ ہو۔۔۔جو بچپن میں پہنچ گیا تھا۔۔
اس نے اپنی جیکٹ کی جیب سے وہی کلپ نکال کر اس بچی کی طرف بڑھا دیا۔۔۔۔
تبھی ایک بزرگ خاتون ایک جوان لڑکی کے ساتھ وہاں آگئی۔۔
اس بچی کے ہاتھوں میں کلپ دیکھ کر بزرگ خاتون نے اس کے ہاتھوں سے وہ کلپ لے لیا اور بڑے غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔نا جانے کیوں پر اس بزرگ خاتون کی آنکھوں میں نمی آگئی تھی۔۔۔۔۔پھر اس نے اسی بزرگ کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا شاید وہ اسے دیکھ کر پہچان گیا تھا۔۔بزرگ کی آنکھوں میں خوشی۔۔حسرت۔۔ محبت۔۔اور نا جانے کیا کیا تھا۔۔۔۔
پھر اس بزرگ خاتون نے اپنے اوور کوٹ کی جیب سے ایک لیڈ پنسل نکالی اور اس بزرگ کی طرف بڑھا دی۔۔۔ ۔وہ سنہرے رنگ کی پنسل جس پر ایک کیپ لگا ہوا تھا اور اس کیپ پر اس کے دانتوں کے نشان تھے اسے پہچان گیا۔۔۔وہ اسی کی پنسل تھی۔۔۔۔جب وہ بچپن میں اس پارک میں آکر وہیں بیٹھا تھا جہاں اس وقت بیٹھا تھا تو شاید وہیں رکھ کر بھول گیا تھا۔۔۔۔اور شاید اس نے تب اسے یہی کہنے کی کوشش کی تھی کہ تمہاری پنسل بینچ پر پڑی ہے۔۔
جس طرح اس نے ساری زندگی اسکے کلپ کو سنبھال کر رکھا تھا اسی طرح اس نے بھی اسکی پنسل کو دل سے لگا کر رکھا تھا۔۔۔۔۔
وہ تو اس سے محبت کرتا تھا اسی لیے اس نے اس کے کلپ کو سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔۔
تو کیا وہ بھی اس سے محبت۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
یقینا ہاں۔۔۔۔نہیں تو وہ اس انجان بچے کی ایک چھوٹی سی پنسل کو ساری زندگی یوں سنبھال کر نہیں رکھتی۔۔۔
اگر وہ اس وقت اس کی کہی بات کا مطلب سمجھ جاتا تو آج وہ یہ جان نہیں پاتا کہ وہ بھی اس سے محبت کرتی ہے۔۔
تب سے جب سے انہوں نے ایک دوسرے کو پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔۔
اس بزرگ خاتون نے اس کو ایک نظر پیار سے دیکھا اور ایک حسرت بھری لمبی سانس چھوڑ کر اس بچی اور جوان لڑکی کے ساتھ پارک سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
وہ اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔۔ تب تک جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی۔۔۔اس بزرگ خاتون نے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔۔۔اگر وہ اسے مڑ کر دیکھ لیتی تو یقینا قیامت سے پہلے قیامت آ جاتی۔۔۔۔
کچھ باتیں انسان کو وقتی طور پر سمجھ نہیں آتیں۔میرا ماننا ہے کہ جن باتوں کی آپ کو وقتی سمجھ نا آ رہی ہو اسے سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔کیونکہ ایک دن وقت ضرور آپ کو سمجھا دیتا ہے۔۔۔اور جب وقت سمجھاتا ہے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔۔۔کچھ باتوں کا مطلب وقت گزرنے کے بعد بہت اچھی طرح سمجھ آتا ہے۔۔۔
از سلمان بشیر۔۔ 


0 comments:

Post a Comment

Hello students, Computer Science mcqs in pdf will be share tomorrow.
Thanks You
NTs Teacher

Learn Online English App Install
For installing Click Here

Featured Posts